آج بھی دھوپ میں ہوں ٹھہرا ہوا
ابر کا انتظار کتنا تھا
اک الاو تھا رُوٹھنا اس کا
مسکراتی تو پھول کھل جاتا
دل کے در پر یہ کس نے دستک دی
گونج اُٹھا ہے گھر کا سناٹا
تیری قربت مری ضرورت تھی
یوں تو تو نے بھی خواب دیکھا تھا
دو قدم اور ساتھ دے لیتے
حوصلہ آپ کا بھی کم نکلا
کون صحرا میں دے تجھے آواز
کون کھولے طلب کا دروازہ
آو قانون کی کتاب پڑھیں
اب صحافت میں کچھ نہیں رکھا
میرے حصے میں غم کی دوپہریں
تیری تقدیر میں گھنا سایہ
آئنے میں تریڑ کیوں آتی
تو کوئی پھول تھا نہ پتھر تھا
خواب سا ہو گیا ہے اب اس کا
منہ چھپا کر اِدھر اُدھر پھرنا
انگلیوں میں عجب حرارت تھی
جسم انگارہ سا دہک اُٹھتا
تھی مخالف ہوائے شہر بہت
قربتوں کا چراغ کیا جلتا
تو تو دھڑکن تھا میرے سینے کی
تو بھی حاکم ہی وقت کا نکلا
تیری آنکھوں میں ڈوب جانے کو
کون سے روز دل نہیں کہتا
کتنا مشکل ہے ان دنوں احمد
شہر میں دشت کی طرح رہنا
